بنگلورو18/اگست (ایس او نیوز) رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل کے خلاف امن اور بھائی چارگی کودھکا پہنچانے والااشتعال انگیز بیان دینے کا جو مقدمہ پولیس نے دائر کیا تھا اسے کرناٹکا ہائی کورٹ نے خارج کردیا ہے۔
نلین کمار کٹیل نے اس مقدمے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔اس پر جسٹس پی ایس دنیش کمار کی ایک رکنی بینچ نے سماعت کی۔ مدعا علیہ نلین کمار کے وکیل ایم ارون شیام نے عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ رکن پارلیمان نلین کمار کے خلاف جو ایف آئی آر داخل کی گئی ہے اس کے پیچھے سیاسی بدنیتی جیسے وجوہات ہیں۔اس کے علاوہ رکن پارلیمان کے خلاف کیس دائر کرنے کے لئے عدالت کی اجازت نہیں لی گئی ہے۔ اس لئے اس مقدمے کو خارج کردیا جانا چاہیے۔مدعاعلیہ کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نلین کمار کے خلاف داخل کیا گیا مقدمہ خارج کرنے کے احکام سنائے۔
یاد رہے کہ 2017میں بی جے پی کے ایک کارکن کارتھک راج کے قتل کے بعدمتنازع اور اشتعال انگیز خطاب کرتے ہوئے مبینہ طور پر یہ کہا تھا کہ اگر قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار نہیں کیا گیا تو پورے جنوبی کینر اکو آگ لگادی جائے گی۔اس بیان کے خلاف الال کے رہنے والے سنتوش کمار شیٹی نے کٹیل کے خلاف کوناجے پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی۔اس کے علاوہ کوناجے پولیس نے خود ہی اپنے طور پر کٹیل کے خلاف کیس درج کرلیا تھااور تحقیقات کے بعد منگلورو جے ایم ایف سی کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ فی الحال اس کیس کی شنوائی بنگلورو منتخب عوامی نمائندوں کے لئے مختص عدالت میں چل رہی تھی۔اور اس عدالت نے کٹیل کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کردیا تھا۔لیکن اب ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہر قسم کی کارروائی پرروک لگ گئی ہے اور کیس پوری طرح ختم کردیا گیا ہے۔